کالمرائے
نااہل لیڈر ریاستی اداروں کا احترام کریں

دنیا جانتی ہے کہ جس وزیراعظم کو ملک کی اعلیٰ عدالت کے پانچ ججز نے نااہل قرار دیا، وہ شخص جس کا الیکشن کالعدم قرار دے کر اس کے حلقے این اے 120 میں دوبارہ الیکشن کروا دیے گئے، مگر اس کے باوجود یہ نااہل وزیراعظم سپریم کورٹ کے پانچ ججوں اور پاکستان کی آرمی کے خلاف زہر اگل رہا ہے اور سپریم کورٹ کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس سے دنیا کے اندر پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے۔ پاکستان کے اندر اس کی سرپرستی میں پولیس رکھنے والے لوگ اپنی طاقت کا غلط استعمال کر کے پاکستان کی پارلیمنٹ کو بدنام کر رہے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نااہل وزیراعظم کا حق ہے کہ وہ قانونی جنگ لڑیں اور جب تک عدالتیں انہیں تمام جرائم سے بری نہیں کر دیتیں وہ ملکی سیاست سے دور رہیں اور یہ تاثر نہ دیں کہ نااہل وزیراعظم اپنی طاقت سے اور زبردستی اپنے مشیروں اور وزیروں سے مل کر اپنے بچاؤ کے لیے پارلیمنٹ سے قانون پاس کروا لیتا ہے، اور زبردستی ایک نااہل وزیراعظم دوبارہ ملک کا سربراہ اور اپنی پارٹی کا صدر بن سکتا ہے۔ دنیا کے کسی پارلیمنٹ کے اندر ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ پانامہ کیس میں دنیا کے جس بھی وزیراعظم یا شخص کا نام آیا انہوں نے فوری طور پر استعفیٰ دے کر اپنے عہدوں سے الگ ہو گئے۔ لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر الزام لگنے اور ثابت ہونے پر بھی وہ اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں، جس کی زندہ مثال وزیراعظم نواز شریف اور اسحاق ڈار ہیں جن پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے اور وہ اب تک وزارتِ خزانہ سے چمٹے ہیں اور بددیانتی سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسحاق ڈار کی بددیانتی کی سنیں کہ اب جب کہ دنیا بھر میں پٹرول کی قیمت کم ہو رہی ہے لیکن اسحاق ڈار نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے گلے کاٹے ہیں۔ یہ سراسر عوام دشمنی ہے۔ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار میں اگر تھوڑی سی بھی غیرت ہے تو فوری طور پر مستعفی ہو جائیں اور دنیا کو اچھا پیغام دیں۔ پی سی این پی کا کہنا ہے کہ نااہل وزیراعظم نواز شریف 35 گاڑیوں کا سرکاری پٹرول استعمال کر کے موجودہ حکومت کے خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اور آج جو مسلم لیگ ن کا جنرل ہاؤس اجلاس ہوا ہے وہ غیرقانونی ہے، کیونکہ سرکاری رہائش گاہ پر پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں بمعہ پروٹوکول ضیافت جو سرکاری وسائل استعمال کر کے، جو کہ مکمل طور پر غیرقانونی ہے اور ملکی خزانے پر ڈاکہ ہے۔ اگر یہ اجلاس کرنا تھا تو ن لیگ اپنا اجلاس ن لیگ کے جنرل ہاؤس یا جاتی امراء کرتی، جس سے عالمی برادری اور پاکستانی عوام کو تاثر ملتا کہ پاکستان کی سیاسی جماعت یہ اجلاس اپنے خرچے پر کر رہی ہے۔ اس اجلاس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ موجودہ حکومت سرکاری وسائل استعمال کر کے خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں اور تمام سیاسی رہنماؤں بشمول اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ نواز شریف اور ن لیگ کی سیاسی مخالفت ضرور کریں لیکن ایک مہذب معاشرے کے اچھے شہری کی طرح تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ کیونکہ نواز شریف تین بار ووٹ کے ذریعے وزیراعظم منتخب ہوا ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی بھی حوالے سے کئی ماہ پہلے سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے ان کو نااہل قرار دیا ہے، لیکن کیونکہ وہ ہمارا وزیراعظم رہا ہے اس لیے ہمیں اس کی عزت کرنی چاہیے اور دنیا کو بتانا چاہیے، بھلے عدالت کچھ بھی فیصلہ دے اسے ہمیں تسلیم کرنا چاہیے اور معاشرے کی بطور سابق وزیراعظم ہمیں عزت کرنی چاہیے۔
یہ میں اپوزیشن سمیت تمام سیاسی رہنماؤں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر ہم نواز شریف کو عزت کے ساتھ سیاسی مخالفت کے باوجود پیش آئیں گے تو پاکستانی معاشرے کی عزت بھی ہوگی اور مقام بھی اونچا ہوگا۔ ہم سابقہ وزیراعظم کے اچھے کاموں کو عزت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے اور جہاں غلط کام ہیں اس کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ میں یہ بتانا چاہوں گا کہ نواز شریف کے دور میں پاکستان کے اندر بہت اچھے کام بھی ہوئے ہیں، لیکن دوسری طرف ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے جھوٹے وعدے کیے، ٹی وی چینلز پر اکثر جھوٹے نعرے لگائے اور کہتے رہے کہ یہ کام نہ ہوا تو میرا نام تبدیل کر دیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ شہباز شریف صاحب آپ کتنی بار اپنا نام تبدیل کریں گے؟ کسی بھی وعدے پر پورے نہیں اترے، ہمیشہ وعدہ خلافی کی ہے۔ اور میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کے ایوانوں میں دہشت گرد بیٹھے ہیں جن کو ریاست تعاون کرتی ہے۔ میں حکومتِ وقت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ جب 2013 میں آئے تھے تو کہا تھا کہ 6 ماہ میں بجلی کا بحران ختم کر دیں گے، لیکن نندی پور، ساہیوال، جھنگ اور دیگر لگائے گئے پاور پلانٹس کا کیا بنا؟ تمام پاور پلانٹس مکمل فیل ہو چکے ہیں اور کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے، کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہوا۔ اس لیے آپ قوم کو دھوکے میں نہ رکھیں۔ آپ نے 6 ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس کا کچھ بھی نہیں ہوا۔ دوسری طرف شہباز شریف صاحب، آپ نے سانحہ یوحنا آباد کے بعد بے گناہ مسیحیوں کو جیلوں میں ڈالا ہوا ہے جس کی بددعائیں آپ کو ملیں گی۔ دو لوگ جو جلائے گئے تھے وہ مسیحیوں نے نہیں بلکہ ن لیگ کے غنڈوں نے جلائے تھے، اور پھر عدالتوں کے اندر آپ کے نمائندوں نے بے گناہ مسیحیوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جس کے ثبوت موجود ہیں۔
آج کا آپ کا اجلاس، ن لیگ کا جنرل کونسل کا اجلاس، مکمل طور پر غیرقانونی ہے۔ کیونکہ آپ نے تمام پارٹی رہنماؤں اور کارکنان پر دباؤ ڈال کر اور عدالت کی توہین کر کے نواز شریف کو منتخب کروایا ہے، جس میں آپ کے وفاقی وزراء سپریم کورٹ اور فوج کی بدترین مخالفت کر کے اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت فوج کے جوان پاکستان کی سلامتی اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہم سب کو مل کر ایسے فوجی جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے۔
میں پاکستانی افواج کے تینوں سربراہوں کو مسیحی برادری کی طرف سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ ان نوجوانوں کو جنہوں نے شہادت قبول کی، ان کے خاندانوں تک میری دعائیں پہنچا دیں کہ خدا ان کو جنت عطا فرمائے، خدا انہیں سکون عطا فرمائے۔ میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ احسن اقبال اور وزیرِ خارجہ خواجہ آصف سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی باتوں پر نظرِ ثانی کریں، ایسا بیان نہ دیں جس سے پاکستان کی عزت و شناخت متاثر ہو۔ پاکستان ہماری شناخت اور عزت ہے جس کی سربلندی کے لیے ہم سب کو سر جوڑ کر پاکستان کی سلامتی کے لیے بہترین حالات پیدا کریں۔ لیکن آج کے حالات میں نواز شریف، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور چند وفاقی وزراء پاکستان کے لیے سکیورٹی رسک ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ ریاست کے وہ ادارے جو اس وقت امن و امان کو کنٹرول کر رہے ہیں وہ ایسے لوگوں کے بارے میں قانون حرکت میں لائیں جو پاکستان کے خلاف ریاستی اداروں کو لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب تک پاکستان کے اندر بشمول سپریم کورٹ تمام ادارے مضبوط نہ ہوں گے، پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے تمام اختلافات ایک طرف رکھ کر پاکستان کے تمام اداروں کو مضبوط کریں اور ان کو ساتھ لے کر چلیں۔ میں آخر میں ایک بار پھر تمام رہنماؤں بشمول ن لیگ کی لیڈرشپ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ آپس میں سیاسی مخالفت ضرور کریں لیکن ایک دوسرے کی عزت و احترام کو خاطر میں لائیں، جس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوگا۔
میں بطور مسیحی لیڈر تمام رہنماؤں کا احترام کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، اور پاکستان کی سلامتی کے لیے تمام مذہبی اقلیتوں سے درخواست کروں گا کہ وہ خاندانی اور مذہبی عبادت گاہوں میں پاکستان کی تمام لیڈرشپ کے لیے، بشمول افواجِ پاکستان، سپریم کورٹ اور تمام ریاستی اداروں کے لیے خصوصی عبادات کریں تاکہ پاکستان دنیا میں خوبصورت ملک بن کے ابھرے اور دنیا کے لیے امن پسند ملک بن جائے۔ اور ہم ثابت کریں کہ پاکستان ایک خوبصورت اور امن پسند ملک ہے۔ اور درخواست کرتا ہوں کہ پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلیں تاکہ یہ ثابت ہو کہ مذہبی اقلیتیں پاکستانی قوم کا حصہ ہیں، کیونکہ ہم نے پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ ن قائداعظم کی مسلم لیگ نہیں ہے بلکہ یہ جنرل ضیاء الحق کی جابر مسلم لیگ ہے، جس نے ملک کے اندر انتشار پیدا کر کے مذہبی رواداری کو ختم کیا۔


