منگل، 29 ستمبر، 2026
ABC CERTIFIED
ای پیپر
GROUP OF PUBLICATIONS

عوامی محبت گروپ آف پبلیکیشنز

روزنامہDAILY AWAMI MOHABBATDaily Urdu newspaper • Kasur | Lahore

کالمقلم کا فرض

اقلیتی طلباء و طالبات کے لئے مذہبی درسی مضامین کا نفاذ

اقبال کھوکھر — قلم کا فرض

یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے سکولوں میں پہلی سے گیارہویں تک کے غیر مسلم (اقلیتی) طلبہ کے لیے ایک تاریخی اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے مذہبی تعلیم کی درسی کتب متعارف کرانے کی نہ صرف منظوری دی بلکہ خدا کے فضل سے اس کو عملی شکل اور نفاذ کے لئے صوبے بھر کے سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نافذ العمل کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، جس میں تمام تعلیمی بورڈز، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو اس پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز پریس کلب لاہور میں شکیلہ جاوید آرتھر ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب (PECTAA کی پہلی اقلیتی ممبر) نے اقلیتی درسی مضامین کے مصنفین سردار پرشانت سنگھ، پروفیسر اشوک کمار کھتری، پروفیسر جیمز انجم پال، اگیسٹئین جارج اور ممبر سائبان پاکستان اقبال کھوکھر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی، جس میں میڈیا سمیت سیاسی، سماجی، مذہبی اور تعلیمی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ ان مضامین کو تعلیمی سیشن 2026-2027 سے باقاعدہ لاگو کر دیا گیا ہے۔ ان درسی کتب کا بنیادی مقصد غیر مسلم طلبہ کو اخلاقیات یا دیگر مضمون کی بجائے ان کے اپنے عقائد اور مذہب کے مطابق تعلیم فراہم کرنا ہے، جو کہ بانیٔ پاکستان کا وژن رہا۔ ماضی میں غیر مسلم طلبہ کے لیے اسلامیات کے متبادل اخلاقیات پڑھائی جاتی تھی، اب اس کی جگہ مذہبی تعلیم باقاعدہ مضمون شامل ہو گئی ہے جس کے تحت 7 اقلیتی مذاہب (مسیحی، ہندو، سکھ، کیلاش، بہائی، پارسی، بدھ مت) کے طلبہ اپنے عقیدے کی کتب پڑھ سکیں گے اور سالانہ امتحانات میں اسی مضمون کا پیپر دیں گے۔ ملک بھر کی مذہبی اقلیتوں کے تمام حلقے اس امر پر خوش ہیں کہ یکساں حقوق اور تعلیمی شمولیت کی طرف حکومت کا یہ بہت بڑا اور مثبت قدم ہے، جس سے ملک میں امن، سلامتی، بھائی چارے، برداشت، مذہبی ہم آہنگی اور قومی رواداری کی کوششوں کو فروغ ملے گا۔

یاد رہے کہ یہ مطالبہ ایک طویل عرصہ سے مذہبی اقلیتوں کی طرف سے کیا جا رہا تھا اور اس سلسلے میں سابقہ ادوار میں متعدد اداروں، شخصیات سمیت پارلیمان نے بھی کوشش کی، مگر یہ منصوبہ بے شمار مصلحتوں، نااتفاقیوں اور انا پرستی کا بھی شکار رہا۔ اور اب جب پہلی بار PECTAA میں اقلیتی ممبر پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا تو وہ چونکہ ایک سماجی اور تعلیم و تربیت کے شعبے سے وابستہ ہیں اس لئے انہوں نے اس پر سنجیدہ جدوجہد کی، اور چونکہ موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت اور وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی بھرپور توجہ سے اس کو عمل درآمد کروا دیا گیا ہے۔ مگر PECTAA کی اس ممبر کا مثبت اور تعمیری رویہ بھی قابلِ ذکر ہے جس نے ہر فورم پر یہ بلند و بانگ کہا کہ یہ اس کوشش میں جس جس نے بھی کوشش کی وہ مبارکباد اور داد کا حقدار ہے۔

مذہبی تعلیم درسی کتب کے نفاذ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ جب نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا اس وقت ملک کے تمام ریاستی اداروں کی طرف سے اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور سائبان پاکستان کے پروگرام ”پیغامِ پاکستان“ کا اسے حصہ بنایا گیا، اور اس کے تحت ملک میں ہونے والی تمام سرگرمیوں میں اس کے بنیادی خدوخال پر روشنی ڈالی گئی۔ اس حوالے سے پاکستان کے ہر فورم میں مذہبی رواداری، قومی ہم آہنگی اور مساوات کو یقینی بنانے میں نہ صرف گرانقدر خدمات سرانجام دیں بلکہ اس کو عمل درآمد کروانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جب وفاق نے اسے صوبوں میں بھیجا، کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے مطابق بنیادی تعلیم صوبوں کی ذمہ داری میں شامل ہے، تو اب پنجاب اس حوالے سے پہلے نمبر پر ہے کہ اس نے وفاق کی طرف سے مذہبی اقلیتوں کے تمام ماہرینِ تعلیم و مذہب سے تحریر و ترتیب دیا گیا مسودہ اپنے صوبے میں فوری نافذ کر دیا، جس پر پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم، پنجاب ایجوکیشن کریکولم اینڈ ٹیکسٹ اسیسمنٹ اتھارٹی (PECTAA) داد کے مستحق ہیں۔ ہم ریاستی اداروں کی ان نظریاتی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس حوالے سے پاکستان کے ہر فورم میں مذہبی رواداری، قومی ہم آہنگی اور مساوات کو یقینی بنانے میں نہ صرف گرانقدر خدمات سرانجام دیں بلکہ اس کو عمل درآمد کروانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ہی کاتھولک چرچ، چرچ آف پاکستان، ایف جی اے، سالویشن آرمی، پینتیکوسٹل چرچز سمیت پاکستان کے تمام چرچز، مندروں، گردواروں اور دیگر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے منتظمین کی تجاویز کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا اور تمام عقائد کے مصنفین کو شامل کیا گیا، جسے ہم سراہتے ہیں۔ پاکستان میں اکثریتی و مذہبی اقلیتوں کے درمیان آباء و اجداد سے معاشرتی، فلاحی اور ریاستی امور پر ہم آہنگی اور رواداری کا ایک رشتہ قائم ہے جو اس نصاب کے اضافے کے ساتھ مزید مضبوط ہوگا۔

سائبان پاکستان کے نظریے ”پیغامِ پاکستان“ کے ملک میں امن و سلامتی و مساوات کے بنیادی فارمولے کے عین مطابق حکومتِ پاکستان، حکومتِ پنجاب اور محکمہ تعلیم نے تمام کتب اور نصاب خود ان اقلیتی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں اور اسکالرز کی مشاورت اور آراء سے تیار کیا تاکہ مواد میں ان کے عقائد کی درست عکاسی ہو سکے۔ یقیناً پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے، اپنے عقیدے، رنگ، نسل اور علاقے سے بالاتر، اس وطن کے محبِ وطن شہری ہیں اور سب کے درمیان مکمل قومی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری وقت کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو اس ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لئے اسی جذبے اور خلوص سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جیسے اس ملک کی تشکیل و قیام میں ہمارے آباء و اجداد نے باہم متحد ہو کر کردار ادا کیا۔

سائبان پاکستان، پیغامِ پاکستان، تمام چرچز، مصنفین، تمام ریاستی اداروں، حکومتِ پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزارتِ تعلیم کا شکریہ۔ پاکستان پائندہ باد۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔